• English
Home > تازہ ترین/جدید ٹیکنالوجی > سیٹلائیٹ کمیونیکیشن

سیٹلائیٹ کمیونیکیشن print

سیٹلائیٹ کمیونیکیشن

سیٹلائیٹ کمیونیکیشن میں زیادہ پیش آنے والے مسائل اور تازہ ترین پیش رفت

آربٹل میں ایندھن بھرنا

جیسا کہ ۱ نومبر، ۲۰۱۱ کو ساٹکام فرنٹیئر میں شائع ہوا۔

 

اس سال کے اوائل میں ، انٹل سات نے عام اعلان کیا کہ یہ میکڈونلڈ ، ڈٹویلور کے ساتھ شراکت دارہیں اور ایسوسی ایٹس (ایم ڈی اے)کو آربٹل ریفلنگ فراھم کرے گا ، ایک جدید سروس جو کہ سیٹلائیٹ میں آربٹل کی زندگی میں اضافہ کرے گی۔ ان آربٹل سیٹلائیٹ کی اضافی زندگی معیشت پر نمایاں طور پراثرانداز ہوگی اور کمیونیکیشن سیٹلائیٹس کی کارکردگی میں بھتری پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرے گا۔

انٹل سات کے جنرل رچرڈ ڈالبیلو حال ہی میں ایک پینل پر‘‘نیو ٹیکنیز، ایکسٹنڈڈ دا لائف آف دا سیٹلائیٹ’’نامی پریزنٹ ساتکون ۲۰۱۱ میں پیش کی جس میں ان آربٹ سیٹلائیٹس کی اضافی زندگی کے فوائد اور چیلنجز پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ڈالبیلو ایم ڈے اے پارٹنرشپ نے مستقبل کی سیٹلائیٹ سروسز پر تبادلھ خیال کیا اور یہ کہ کس طرح  امریکی حکومت اور عالمی سطح پر حکومتوں کو اس نئے فرنٹیئر اور بہت سے دوسروں کو ملائیں۔ 

ایک کم لاگت کے متبادل کے طور پر ہوائی جہاز سے سیٹیلائٹ کا آغاز

نومبر ، ۲۰۱۱

ڈارپا نے ایک بورڈ ایریا اناونسمنٹ (بی اے اے) ،ہوائی جھاز سے چھوٹے سیٹلائیٹ کی لانچنگ کے بارے میں معلومات کیلئے جاری کیا ہے جو ایک متبادل کے طور پر مہنگی عمودی راکٹ کو کم قیمت پر لانچ کرے۔ پروگرام ایئربرون لانچ اسسٹ اسپیس اسس (اے ایل اے ایس اے) کہلاتا ہے جو ایک ہوائی جہاز اور راکٹ کو اپنی مرضی کے مطابق نظر ثانی شدہ کیریئر کی رینج کیلئے بلاتا ہے۔ ایک کمپیوٹر سے بنائی گئی تصویر بی اے اے کے حامل بھاری نظرثانی بومبارڈیر علاقائی جیٹ کے ھمراہ ایک مثال فراہم کرتا ہے جو آنے والےوقت میں ہو سکتا ہے۔

بی بی اے کسی بھی معلومات کے جمع کرنے کے پیچھے ضروری قیادت فراہم نہیں کرتا لیکن پریزنٹیشنز کے ساتھ درخواست کی تجاویز کا اعلان کرتا ہے، ایک آربٹ میں ۳۔۴۵ کلو گرام (۱۰۰ پاؤنڈ) وزن رکھنے کیلئے جو ایک ۲،۲۶۸ کلوگرام (۵،۰۰۰ پاؤنڈ) ایئر لانچ راکٹ میں استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح ایک گاڑی کا وزن اور لانچنگ حالات میں زیادہ سہولت کی اجازت دیں گے اور لانچ کے اخراجات کو کم نمایاں کر سکیں گے۔  پھلا کامیاب ایئر لانچنگ سیٹلائیٹ ۱۹۸۰ میں آربٹ سائنسز نے پیگاسس راکٹ اور ایک بی ۵۲  کے لانچنگ پلیٹ فارم کے استعمال سے مدار میں بھیجا۔ کمپنی اب ایک نظرثانی شدہ لاک ھیڈ ایل ۱۰۱۱ ہوائی جہازسے استعمال کرتے ہوئے باقاعدہ لانچ کی پیش کش کرتی ہے۔ مزید تصورات کو سمجھنے کیلئے جاری کیا گیا کمپنیز کی دلچسپی کو کچھ باقاعدگی سے فعال کرنے کیلئے ، ہوائی جہاز کی رینج مگ ۲۱ ایس سے لے کر بڑے پیمانے پر اینٹونو ۲۲۵ ایس کی خاصیت ہیں۔

نومبر ۲۰۱۱ سے ایک ڈارپا یا ناسا رپورٹ ،مختلف اقسام کے طیاروں اور لانچ کی ترتیب کی تحقیقات کررہی ہے،جس نے یھ نتیجھ اخذ کیا ہے کہ ایک آف ڈا شیلف ایئرکرافٹ میں ترمیم سے کم قیمت ۳،۰۰۰ڈالر فی پاؤنڈ نتیجھ دے سکتا ہے، یا  ایک بڑے روایتی راکٹ کوقریب قریب ایک تہائی قیمت میں ۔

ہوائی لانچ کے ساتھ منسلک اہم حدود کو وسیع پیمانے پر استعمال سے پریکٹس محدود ہے۔ مخصوص حالات میں، راکٹ اور سیٹلائٹ کا وزن اور کارکردگی سخت پابند ہوتی ہے، طیاروں کے وزن کی محدود صلاحیت ،کارکردگی اور انتہائی دھماکہ خیز کیمیکل کے ساتھ منسلک کی حفاظت کے مسائل کی طرف سے ۔

ایئر لانچ کا تصور، جس کی پہلے سیٹلائیٹ تجاویز کے بعد سے تحقیقات کی گئیں، دیئے گئے مشن کیلئے مصنوعی سیارہ کی ضروری سائز اور وزن کے حالیھ دہائیوں میں ڈرامائی طور پر سکڑ کر تیزی سے پرکشش بن گیا ہے۔ ایئرکرافٹ کے قابل اعتماد ہونے میں اضافہ اور آپریٹنگ لاگت ترغیب دیتی ہیں۔