• English
Home > سیٹلائیٹ رابطہ > پاک سات ۱آر سیٹلائیٹ

پاک سات ۱آر سیٹلائیٹ print

پاک سات ۔ون آر سیٹیلائیٹ

مواصلاتی سیٹیلائیٹ کا کسی بھی ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ہے۔ پاکستانی سیٹلائیٹ پروگرام ۱۹۸۳ میں شروع کیا گیا تھا اور ۱۹۹۳ میں ۳۸ ڈگری ای پر پاک سات ون کیلئے ایڈوانس پبلی کیشن آف انفارمیشن (اے پی آئی) میں شامل کیا گیا۔ پاکستان کا پہلا مواصلاتی سیٹیلائیٹ ، پاک سات ۔ون آر چین کے زیچانگ سیٹلائٹ لانچ سنٹر سے سیٹلائٹ لانچ وہیکل کا استعمال کرتے ہوئے اگست ۲۰۱۱میں کامیابی سے لانچ کیا گیا۔، پاک سات ۔ون آر ۳۰ ٹرانسپونڈرز کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سی بانڈ میں ۱۲ اور کو بانڈ میں ۱۸۔سیٹیلائیٹ جیو اسٹیشنری آربیٹ (جی ایس او) میں ۳۸ فارن ھائیٹ پر تبدیل کیا گیا پھلے سے تعینات سیٹیلائیٹ پاک سات ون سے جو اصل میں لیز ہے ۲۰۰۲ میں ھیوگز سے ۔ پاک سات ون سیٹیلائیٹ کے ڈیزائن کی زندگی ۱۵ سال ہے اور جو پورے جنوبی اور وسطی ایشیا، مشرقی یورپ، مشرقی افریقہ اور مشرق بعید میں ٹی وی نشریات، انٹرنیٹ اور ڈیٹا کمیونیکیشن کی خدمات فراہم کرے گا۔ پاک سات ون آر تمام پاکستان کے علاقوں کو بھی کمیونیکیشن کی خدمات فراہم کررھا ہے۔ پاک سات ون آر سیٹیلائیٹ کا مینوفیکچرنگ اور لانچنگ کا معاھدہ پاکستان اسپیس اور اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) اور چائنا گریٹ وال انڈسٹری کارپوریشن (سی جی ڈبلیو آئی سی) کے درمیان اکتوبر ۲۰۰۸ میں دستخط کئے، جب صدر پاکستان نے چین کا دورہ کیا۔ چین اور پاکستان کا خلائی سائنس، ٹیکنالوجی، اور اپلیکیشنز میں تعاون ۲۰سال سے زائد کا ہے۔ پاک سات ون آر سیٹیلائیٹ کا آغاز واقعی پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تھا۔ فیب انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن (آئی ٹی یو) میں پاک سات سیٹلائیٹ نیٹ ورکس کے لیے پاکستان کی نامزد کردہ اطلاعات ایڈمنسٹریشن آف پاکستان کو پھنچاتا ہے اور آئی ٹی یو کے تمام ۱۹۳ ریاستی ممبرز کے لیے فوکل پوائنٹ ہے۔ فیب پاک سات ون آر سیٹیلائیٹ نیٹ ورک کی فریکونسی کے تعاون سے لاگو آئی ٹی یو آر ریڈیو ضابطوں کے مطابق اہم کردار ادا کرتا ہے۔مزید تفصیل کیلئے اس لنک پر کلک کریں